اپولدنما اور شوکپہ – تحریر انور علی ژھر پا

IMG-20180617-WA0007

یوں تو کرگل کے ہر گاﺅں کی اپنی ایک منفرد کہانی ہے۔ کچھ حقائق پر مبنی اور کچھ جزبات کی دین ہے۔ لیکن سچائی سے بڑی حد تک ہم آہنگ ضرور ہے ۔ امتداد زمانہ کے ساتھ اگر چہ تاریخی حقائق متاثر ہوئی ہے تاہم اصلیت کسی نہ کسی شکل اب بھی باقی اور موجود ہے۔اور شعوری اورلاشعوری طور لوگوں کو اپنی طرف جلب کررہی ہے ۔ ایسی ہی ایک کہانی شُک چیک نامی گاﺅں کی ہے جو کرگل خاص سے تقریبا15 کلومیٹر کی دوری پر لیہ کرگل شاہراہ پر واکھانالہ کے دائیں کنارے واقع ہے۔ شک چیک کے لوگوں کو اس گاﺅ ں میں موجودصنوبرکے درخت ( شکپہ)سے ایک دلی لگاﺅ ہے کیونکہ یہ اُن کے پردادا کی یادگار ہے۔ جس نے ان کے گاﺅں کو پہلی بار آباد کیا تھا۔

راقم کاجب اسسٹنٹ ٹورسٹ آفسرمحمد عیسی سے  ایک رسمی ملاقات کے دوران انکے گاﺅں کے متعلق گفتگو کی تو ذیل کی کہانی سامنے آئی۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ پشکم میں ایک شخص اپو لدنما کے نام سے رہا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے مویشیوں کو دیکھنے سکمبو کے پہاڑی میں چڑھا جہاں اُنہیں ایک صنوبر کادرخت( شکپہ) کا چھوٹا سا پودا ملا۔ اُنہوں نے پودے کو اپنے پرس میں سنبھال کرلے آیا اور نیچے اُترتے اُترتے آج کی شک چیک نامی جگہ کے پاس پہنچی۔ اونچاِئی سے اُنہوں نے اس پودے کو لگانے کا ایک موزون جگہ تلاش کیا تو وہی جگہ پایا جہاں آج پیڑ موجود ہے۔ اُس وقت یہ جگہ جھاڑیوں سے گھیرا ہوا تھا۔ اُنہوں نے پودے کو زمین کے حوالے کرتے ہوئے یہ ارادہ کیا کہ اگر یہ پودا ایک پیڑ کی شکل لے لیتا ہے تو وہ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ جب چند سال بعد اپو لدنما اُس جگہ پر واپس پہنچاتو پایا کہ وہ پیڑآس پاس کی جھاڑیوں سے بھی بڑی ہو چکی ہے ۔ لہذا اُنہوں نے اس جگہ کو آباد کیا۔

آج جہاں یہ پیڑ اپولدنما کی نویں نسال کی دیدار پر نازاں ہیں وہیں اپولدنما کی نویں پشت اس درخت کو بابرکت تصورکرتے ہوئے اس سے مستفید ہونے کے ساتھ اسکی آبیاری اور نگرانی میں منہمک ہے۔ اپو لدنما کے صاحب زادے اپو سونمژھیرنگ تھا جن کے بیٹے سونم علی اور اس طرح غلام علی تھا۔ غلام علی کے پانچ بیٹے تھے جن میں سے ایک نصیب علی چھاتی تھنگ میں منتقل ہوئی، دوسرا بیٹا فوکار کے فُو نامی علاقے میں آباد ہوا اور تیسرا کرامبا نامی علاقے میں منتقل ہوا۔ باقی دو، کہا جاتا ہے کہ شک چیک میں ہی آباد ہوے۔ آج ایک خاندان کو حاجی یوسف علی کے نام سے جانا جاتا ہے جو دریا کے اس پار لوچوم میں آباد ہے۔ دوسرا محمد ابراہیم شک چیک میں ہی آباد رہے۔ جن کے اولاد آج بھی شک چیک میں ہی مقیم ہے۔ آج شک چیک میں تقریبا 19 گھرانے آباد ہےں جو سب اپو لدنما کی ہی نسل سے ہے۔

IMG-20180617-WA0005

صنوبر یعنی شکپہ درخت کے پاس کچھ مختلف اقسام کے پتھر نصب کیا ہواہے جنہیں کہا جاتا ہے کہ اپو لدنما نے ہی جمع کر کے نصب کیا تھا اور اُس خاص جگہ کو لدنمی تھویور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے جب لوگوں کے پاس گھڑی نہیں ہوا کرتا تھا تو لدنمی تھویور کو وقت کی شناخت کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ان پتھروں پر سورج طلوع ہونے پر لوگ اپنے مال مویشیوں کو پانی پلانے لیتے تھے اورغروب ہونے پر مویشوں کو جمع کرتے تھے، نیز اس کے سائے کو دیکھ کر دوپہر کے وقت کااندازہ لگاتے تھے۔مقامی لوگوں نے سرکار سے اُس شکپہ کو تحفظ دینے کی مانگ بھی کی تھی اور تاریخی درخت سرکار کی جانب سے عملی اقدام کی اب بھی منتظر ہے۔

 

Note: The article was first appeared in the Voice of Ladakh, Volume:6 | Issue:14, on 21, June 2018.