…ایک کہانی اتحاد کی

DiscoverUnity

کہانی تب شروع ہوتی ہے جب اسلامیہ اسکول میں اسلامیہ اسکول اور امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے اتحاد کے نام پر ایک بھونچال آتا ہے اور اسلامیہ سکول کے نیے صدر جناب ناظر المہدی صاحب کا انتخاب جناب سید جمال الدین صاحب کو ہٹا کر ہوتا ہے جو اُس وقت اتحاد کرنے کے لیے سب سے پیش پیش ہوتے ہیں اور اس حد تک کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کہ دونوں فریقوں میں لگ بھگ اتحاد کا سلسلہ آخری مرحلے میں ہوتا ہے۔
صدر بننے کے بعد جناب ناظر المہدی صاحب آہستہ آہستہ سحر ٹی وی پر نشر ہونے والے جلسہ و جلوس میں خاصکر(مطلب خاصکر) نظر آنے لگ جاتے ہیں۔ تبھی کرگل میں ایک انقلاب آ جاتا ہے اور لوگ علم جناب حضرت عباس ّ کی محبت میں پلکیں بچھایے انتظار میں لگ جاتے ہیں۔ اس دوران پتہ چلتا ہے کہ اس علم کے لانے میں سب سے بڑا کردار جناب سجاد کاکسری صاحب کا رہا ہے۔ لوگوں کا جزبہ ایمانی دیکھ کے فلک بھی رشک کرنے لگتا ہے اور علم کی زیارت سے سب ہی اپنے دلوں میں ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں۔
آہستہ آہستہ بات پرانی ہو جاتی ہے۔
تھوڑے عرصے بعد جناب شیخ ناظر المہدی صاحب سکردو چلو کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور اسکی رہنمایی جناب سجاد کاکسری صاحب کے حوالے کی جاتی ہے۔ بہت کوششیں کی جاتی ہیں پر یہ نعرہ انکے خواہشوں کے بر خلاف ٹھنڈی پڑ جاتی ہے کیونکہ اس نعرے میں کرگل کے با شعور عوام کو کوی فایدہ نظر نہیں آ رہا ہوتا ہے۔
اسی اثنا میں کرگل میں ڈیویژنل سٹیٹس کا مسعلہ آ جاتا ہے اور پھر سے کرگلی عوام کی رگوں میں خون دوڑ جاتا ہے۔ ہر کوی چاہے وہ عام ہو یا خاص مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک ہونے کہ صلاح دیتے ہیں اور الللہ کے کرم سے ایک کمیٹی بنتی ہے جس کا نام جے ار سی (JRC) رکھا جاتا ہے اور سب ایک سٹیج پر جمع ہو جاتے ہیں۔ پوری امت کرگل ملکر ایسی آواز بلند کرتے ہیں کہ ہندوستانی ایوان ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ الحمد الللہ
کچھ عرصے بعد ایم پی کا الیکشن ہونا ہوتا ہے اور سارے لوگ اسی خواب غفلت میں پڑے رہتے ہیں کہ اس بار تو ہم متحد ہیں اور ایک کینڈیڈیٹ کو کھڑا کر کے ہم بازی مار لیں گے۔ کرگل کے سارے عوام جے ار سی (Joint Resistance Committee ) سے اُمیدیں لگاے ہوے ہوتے ہیں کہ اج یا کل یہ ملکر ایک میٹنگ کریں گے کہ اچانک سیاست کو طلاق دینے والے اپنی مرضی سے سیاسی جماعتوں کو طلب کر کے ایک تجویز پیش کرتے ہیں کہ اپ سب ملکر کسی کینڈیڈیٹ کا نام دیں تاکہ اتحاد قایم ہو سکے؟ ؟؟
یہ ایک سوچی سمجھی چال ہوتی ہے کیونکہ ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نا ممکن ہے کہ سبھی سیاسی جماعتیں ملکر کسی ایک کے نام پر سر تسلیم خم کر دیں۔
پھر مذہبی جماعتوں کو بلایا جاتا ہے۔ جس میں دو ہی نام رکھے جاتے ہیں کیونکہ دوسری جماعتیں ملکر اسلامیہ اسکول اور امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے حوالے کر دیتے ہیں کہ اپ ہی ایک ایک نام تجویز کریں تاکہ کینڈیڈیٹ کو چنے میں آسانی ہو اور اتحاد قایم ہو سکے۔
جو دو نام رکھے جاتے ہیں وہ ہیں جناب اضغر علی کربلای صاحب اور جناب سجاد کاکسری صاحب (جو اجکل سجاد کاکسری سے سجاد کرگلی کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں)
کسی کو انکے نام پر اعتراض نہیں ہوتا اور ان دونوں کے نام پر دوسروں سے راے لی جاتی ہے (یا کہیں ووٹنگ کی جاتی ہے) اور جناب اضغر علی کربلای کو زیادہ ووٹ مل جاتے ہیں۔
”یا اللہ یہ کیا ہو گیا پانسہ تو الٹا پڑ گیا”
جب ووٹ زیادہ مل جاتے ہیں تو اعتراضات شروع ہو جاتے ہیں اور میٹنگ برخاست کر کے اگلے دن پھر سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بلایا جاتا ہے جس میں ایک تنظیم کو دروازے سے ہی واپس لوٹایا جاتا ہے۔(والللہ اعلم)
اسلامیہ اسکول اور کچھ جماعتیں اس بات پر اڑ جاتے ہیں کہ جناب اضغر علی کربلای صاحب نہ ہو باقی چاہے جو بھی ہو۔ کوی بھی ہو چل جاے گا (بیوقوف ہو، جاہل ہو، ان پڑھ ہو، گنوار ہو، کام آتا ہو یہ نہ آتا ہو، چلو کوی بسیجی ہو، امام خمینی میموریل ٹرسٹ کا ہو، چاہے ایک فیصد بھی تجربہ نہ ہو، کچھ بھی ہو، کچھ سروکار نہیں کیونکہ ہمیں ایم پی جتا کر لہہ والوں کو دکھانا ہے) (الللہ کی پناہ)
اس بات کو سمجھانے کی کوشش میں کہ ہمیں صرف ایک ایم پی نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کو بھیجنا چاہیے جو کرگل کی نمایندگی کر سکے، ایوان میں کرگل کے غیور عوام کی عکاسی کر سکے، تھک ہار کر امام خمینی میموریل ٹرسٹ راضی ہو جاتی ہے اور جناب شیخ بشیر صاحب کے ساتھ یہ پیغام ارسال کرتی ہے کہ جناب اضغر علی کربلای صاحب کا نام واپس لے لیا گیا ہے اور جناب اضغر علی کربلای صاحب کا نام واپس لے کے اس بات کی مہلت صرف صبح نو بجے تک مانگتی ہے کہ کسی دوسرے شخص کو کہ جو اس کرسی کے لیے قابل ہو کو چنا جا سکے۔ کیونکہ امام خمینی میموریل ٹرسٹ کا موقف بلکل صاف رہتا ہے کہ نمایندہ ایسا ہو جو کرگلی عوام کا سر جھکنے نہ دے۔ پر اتحاد کے اڑ میں اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے کی کوشش میں جو لگے تھے انہیں یہ بات نا گوار گزرتی ہے کہ امام خمینی میموریل ٹرسٹ نے جناب اضغر علی کربلای صاحب کا نام واپس لے لیا اور اتحاد ہونے کے امکانات وسیع ہو گیے۔
ہڑ بڑی میں ان سب لوگوں و جماعتوں کے جزبات، جو یہ چاہتے تھے کہ اتحاد ہو، کو بالاے طاق رکھ کر دوسرے ہی دن جناب سجاد کاکسری صاحب کو نامزد کیا جاتا ہے۔
پھر اج تک نہ اتحاد کی بات کرتے ہیں اور جو چاہتے تھے کہ اتحاد ہو انکا سامنا بھی نہیں کرتے۔ اپنے صدر و کینڈیڈیٹ کو لے کے میٹنگ میں وہ اتے ہیں جنکا دل صاف ہوتا ہے اور وہ جناب شیخ رجای صاحب اور جناب اضغر علی کربلای صاحب ہوتے ہیں۔ شاید وہ جانتے تھے کہ اگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو زیادہ سے زیادہ قرعہ لگایا جایے گا اور وہ الللہ پر توکل کر کے آ جاتے ہیں۔
افسوس صد افسوس کہ پھر بھی اج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شیخ بشیر صاحب اور جناب اضغر علی کربلای صاحب اتحاد کے حق میں نہیں۔
جناب شیخ ناظر المہدی صاحب اس صدر کو ہٹا کے آیے تھے جو اتحاد کے خواہاں تھے اور اج کچھ لوگ جناب شیخ ناظر المہدی صاحب سے امید کر رہے ہیں کہ وہ اتحاد کریں گے
الللہ کی پناہ

 

The article is written by a Kargili who want to be anonymous. The article is published with a pure intention to keep an account of the developments in the region. Ladakh Express entertains write-up from writers. You can send us your piece on ladakhexpress[@]gmail.com

Advertisements

One thought on “…ایک کہانی اتحاد کی

  1. Ihsan ali April 24, 2019 / 8:11 am

    By this politics of division no one is going to get any benifit.niether ISK nor IKMT.infact it will be detrimental for the image of these organisations.even a moron understands that.
    Then what is the cause for this .why was the president so adement to nominate the name hi choose.no one including those who are supporting now including NC and PDP were happy with his name
    Then who is behind the scene.whose game is this .
    Is the president getting used.
    My wild guess is. things are not as simple as it appears.kuch to hai jiski pardedari hai

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s