Principles should be base to choose MP – Sheikh Anwar Hussain


Sh Anwar 1

In the name of God, the most beneficent, the most merciful. All the praise is for him. Blessings and peace upon the household of the prophet (saw) and his followers. Dear believers, men and women, the youth of the Ladakh region greetings to you all. We all gripped in the crisis of the election because of not able to unite the religious organisations over a single candidate. If they had united over a common candidate, we might not have to face all these problems. But unfortunately, two candidates came into the fray. Both the two organisations and some small organisations are campaigning in favour of one and against another.

In this regard, I want to deliver advice to you. I am offering this message from a nook of Qom, because of being a part of this society. Please listen to it and if you find it valid accept it otherwise throw it out.

Dear, we are forced to accept from among two candidates – Sajjad Kaksari and Asgar Karbalai. What should we do? Should we decide on based on the organisation or basis of principles? This is a matter of great examination for all of us.

I site you an example. If the government ask us to appoint a principal for a school from among many youths in the area, knowingly or unknowingly people would choose either of these two options in taking this decision: Amanathdary (Truthfulness) or Khayanat (betrayal). If the people of the area are truthful, no dispute will arise over the decision. They would say that the best, talented, and suitable should appoint as principal and there is no need for prolonged arguments. But if they are politically or materially motivated, they would get into a conflict of region, caste or religion and would appoint a less qualified person. Is this betrayal or truthful with the future of the children in the area? This is like chopping one’s legs with an axe. This is spoiling the future of children.

If one says that a new face is required, youth is needed, it is a betrayal. What should be the criteria? Aged or youth, Sheikh or Syed, minority or minority or quality matters? There is a particular requirement for the post of principal; so, one who possesses these requirements should appoint on the vacancy. That would be the best decision for the future of children.

Similarly, if appoint a CEC, for which the people have no direct right to appoint but appoint by the councillors, should nominate the best qualified from among themselves. There is development in areas, even in non-Muslim countries like Europe because of electing representatives with a principle. Principles should be the criteria rather than, age, region, party or something else. If followed principles in the appointment, then only justice is made with this particular post.

If I say in other words, I would say that this election is not between two individuals or between IKMT or ISK. This is a matter to decide the future of our region. Some say that because of two candidates in Kargil the seat would slip out of their hands. You should not concern only for Kargil but for the whole region. You should concern the entire country or state as the whole. Now you are not choosing a CEC or MLA but a Member of Parliament. This is a representative of the whole region not of a particular organisation, region, Sout, Karchay, Shakar Chiktan etc. This is not a matter to dispute based on region or Leh or Kargil. Even our intellect says that the best person from the area should appoint for the welfare of the whole region.

We should appoint the best person who would represent the Ladakh region among other around 500 MPs in the parliament. We may have someone more qualified, senior from them. But now in this current scenario, we have to choose the best from among these two. Above region, religion, caste and party, our decision should guide by intellect, mind and principles. For this decision, you have to forget all those bitter tastes and discords, if you have with the best person from among these four MP candidates in the fray.

I site you another example. To become an MP, one must possess some experiences. He should be a councillor, MLA and then an MP. He should go step by step. This is stupidity to bring youth to parliament who have zero experience of politics. I am not aimed to defame or weaken a particular candidate. Giving suggestions and gaining experience on the ground are two different things. It needs experience. Reverberating, what can do and what not in Urdu and English words would only examine well once get into the field. Thus, there is no question of aged vs youth, IKMT vs ISK, Congress vs NC etc. You shall cast your vote for the best-qualified person for this particular post. God willing, we would not fall in a loss.

How much experience and capability our MP should have who would be on the field with the most experienced politicians from all over India. He would serve the region, State and the whole country. Is it right to handover an aeroplane to a truck driver no matter how good he is in his truck driving. These two things are two different things. A person from one field cannot handle in another field.

The message delivered by Sheikh Anwar Hussain Sharafuddin is translated by Ladakh Express team with due permission from the speaker.

…ایک کہانی اتحاد کی


کہانی تب شروع ہوتی ہے جب اسلامیہ اسکول میں اسلامیہ اسکول اور امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے اتحاد کے نام پر ایک بھونچال آتا ہے اور اسلامیہ سکول کے نیے صدر جناب ناظر المہدی صاحب کا انتخاب جناب سید جمال الدین صاحب کو ہٹا کر ہوتا ہے جو اُس وقت اتحاد کرنے کے لیے سب سے پیش پیش ہوتے ہیں اور اس حد تک کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کہ دونوں فریقوں میں لگ بھگ اتحاد کا سلسلہ آخری مرحلے میں ہوتا ہے۔
صدر بننے کے بعد جناب ناظر المہدی صاحب آہستہ آہستہ سحر ٹی وی پر نشر ہونے والے جلسہ و جلوس میں خاصکر(مطلب خاصکر) نظر آنے لگ جاتے ہیں۔ تبھی کرگل میں ایک انقلاب آ جاتا ہے اور لوگ علم جناب حضرت عباس ّ کی محبت میں پلکیں بچھایے انتظار میں لگ جاتے ہیں۔ اس دوران پتہ چلتا ہے کہ اس علم کے لانے میں سب سے بڑا کردار جناب سجاد کاکسری صاحب کا رہا ہے۔ لوگوں کا جزبہ ایمانی دیکھ کے فلک بھی رشک کرنے لگتا ہے اور علم کی زیارت سے سب ہی اپنے دلوں میں ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں۔
آہستہ آہستہ بات پرانی ہو جاتی ہے۔
تھوڑے عرصے بعد جناب شیخ ناظر المہدی صاحب سکردو چلو کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور اسکی رہنمایی جناب سجاد کاکسری صاحب کے حوالے کی جاتی ہے۔ بہت کوششیں کی جاتی ہیں پر یہ نعرہ انکے خواہشوں کے بر خلاف ٹھنڈی پڑ جاتی ہے کیونکہ اس نعرے میں کرگل کے با شعور عوام کو کوی فایدہ نظر نہیں آ رہا ہوتا ہے۔
اسی اثنا میں کرگل میں ڈیویژنل سٹیٹس کا مسعلہ آ جاتا ہے اور پھر سے کرگلی عوام کی رگوں میں خون دوڑ جاتا ہے۔ ہر کوی چاہے وہ عام ہو یا خاص مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک ہونے کہ صلاح دیتے ہیں اور الللہ کے کرم سے ایک کمیٹی بنتی ہے جس کا نام جے ار سی (JRC) رکھا جاتا ہے اور سب ایک سٹیج پر جمع ہو جاتے ہیں۔ پوری امت کرگل ملکر ایسی آواز بلند کرتے ہیں کہ ہندوستانی ایوان ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ الحمد الللہ
کچھ عرصے بعد ایم پی کا الیکشن ہونا ہوتا ہے اور سارے لوگ اسی خواب غفلت میں پڑے رہتے ہیں کہ اس بار تو ہم متحد ہیں اور ایک کینڈیڈیٹ کو کھڑا کر کے ہم بازی مار لیں گے۔ کرگل کے سارے عوام جے ار سی (Joint Resistance Committee ) سے اُمیدیں لگاے ہوے ہوتے ہیں کہ اج یا کل یہ ملکر ایک میٹنگ کریں گے کہ اچانک سیاست کو طلاق دینے والے اپنی مرضی سے سیاسی جماعتوں کو طلب کر کے ایک تجویز پیش کرتے ہیں کہ اپ سب ملکر کسی کینڈیڈیٹ کا نام دیں تاکہ اتحاد قایم ہو سکے؟ ؟؟
یہ ایک سوچی سمجھی چال ہوتی ہے کیونکہ ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نا ممکن ہے کہ سبھی سیاسی جماعتیں ملکر کسی ایک کے نام پر سر تسلیم خم کر دیں۔
پھر مذہبی جماعتوں کو بلایا جاتا ہے۔ جس میں دو ہی نام رکھے جاتے ہیں کیونکہ دوسری جماعتیں ملکر اسلامیہ اسکول اور امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے حوالے کر دیتے ہیں کہ اپ ہی ایک ایک نام تجویز کریں تاکہ کینڈیڈیٹ کو چنے میں آسانی ہو اور اتحاد قایم ہو سکے۔
جو دو نام رکھے جاتے ہیں وہ ہیں جناب اضغر علی کربلای صاحب اور جناب سجاد کاکسری صاحب (جو اجکل سجاد کاکسری سے سجاد کرگلی کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں)
کسی کو انکے نام پر اعتراض نہیں ہوتا اور ان دونوں کے نام پر دوسروں سے راے لی جاتی ہے (یا کہیں ووٹنگ کی جاتی ہے) اور جناب اضغر علی کربلای کو زیادہ ووٹ مل جاتے ہیں۔
”یا اللہ یہ کیا ہو گیا پانسہ تو الٹا پڑ گیا”
جب ووٹ زیادہ مل جاتے ہیں تو اعتراضات شروع ہو جاتے ہیں اور میٹنگ برخاست کر کے اگلے دن پھر سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بلایا جاتا ہے جس میں ایک تنظیم کو دروازے سے ہی واپس لوٹایا جاتا ہے۔(والللہ اعلم)
اسلامیہ اسکول اور کچھ جماعتیں اس بات پر اڑ جاتے ہیں کہ جناب اضغر علی کربلای صاحب نہ ہو باقی چاہے جو بھی ہو۔ کوی بھی ہو چل جاے گا (بیوقوف ہو، جاہل ہو، ان پڑھ ہو، گنوار ہو، کام آتا ہو یہ نہ آتا ہو، چلو کوی بسیجی ہو، امام خمینی میموریل ٹرسٹ کا ہو، چاہے ایک فیصد بھی تجربہ نہ ہو، کچھ بھی ہو، کچھ سروکار نہیں کیونکہ ہمیں ایم پی جتا کر لہہ والوں کو دکھانا ہے) (الللہ کی پناہ)
اس بات کو سمجھانے کی کوشش میں کہ ہمیں صرف ایک ایم پی نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کو بھیجنا چاہیے جو کرگل کی نمایندگی کر سکے، ایوان میں کرگل کے غیور عوام کی عکاسی کر سکے، تھک ہار کر امام خمینی میموریل ٹرسٹ راضی ہو جاتی ہے اور جناب شیخ بشیر صاحب کے ساتھ یہ پیغام ارسال کرتی ہے کہ جناب اضغر علی کربلای صاحب کا نام واپس لے لیا گیا ہے اور جناب اضغر علی کربلای صاحب کا نام واپس لے کے اس بات کی مہلت صرف صبح نو بجے تک مانگتی ہے کہ کسی دوسرے شخص کو کہ جو اس کرسی کے لیے قابل ہو کو چنا جا سکے۔ کیونکہ امام خمینی میموریل ٹرسٹ کا موقف بلکل صاف رہتا ہے کہ نمایندہ ایسا ہو جو کرگلی عوام کا سر جھکنے نہ دے۔ پر اتحاد کے اڑ میں اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے کی کوشش میں جو لگے تھے انہیں یہ بات نا گوار گزرتی ہے کہ امام خمینی میموریل ٹرسٹ نے جناب اضغر علی کربلای صاحب کا نام واپس لے لیا اور اتحاد ہونے کے امکانات وسیع ہو گیے۔
ہڑ بڑی میں ان سب لوگوں و جماعتوں کے جزبات، جو یہ چاہتے تھے کہ اتحاد ہو، کو بالاے طاق رکھ کر دوسرے ہی دن جناب سجاد کاکسری صاحب کو نامزد کیا جاتا ہے۔
پھر اج تک نہ اتحاد کی بات کرتے ہیں اور جو چاہتے تھے کہ اتحاد ہو انکا سامنا بھی نہیں کرتے۔ اپنے صدر و کینڈیڈیٹ کو لے کے میٹنگ میں وہ اتے ہیں جنکا دل صاف ہوتا ہے اور وہ جناب شیخ رجای صاحب اور جناب اضغر علی کربلای صاحب ہوتے ہیں۔ شاید وہ جانتے تھے کہ اگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو زیادہ سے زیادہ قرعہ لگایا جایے گا اور وہ الللہ پر توکل کر کے آ جاتے ہیں۔
افسوس صد افسوس کہ پھر بھی اج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شیخ بشیر صاحب اور جناب اضغر علی کربلای صاحب اتحاد کے حق میں نہیں۔
جناب شیخ ناظر المہدی صاحب اس صدر کو ہٹا کے آیے تھے جو اتحاد کے خواہاں تھے اور اج کچھ لوگ جناب شیخ ناظر المہدی صاحب سے امید کر رہے ہیں کہ وہ اتحاد کریں گے
الللہ کی پناہ


The article is written by a Kargili who want to be anonymous. The article is published with a pure intention to keep an account of the developments in the region. Ladakh Express entertains write-up from writers. You can send us your piece on ladakhexpress[@]