کرگل میں ہیراپھیری! زمہ دار کون؟

Kargil Corruption

یہ تو سب نے سنا ہوگا کہ پچھلے سال ڑیر ساری بد نظمی اور بد عنوانیوں کے زیر سائہ ہونے والی جنرل لائن ٹیچرز کے امتحان کا نتیجہ آگیا تھا جس پر بہت سے کرگلی جوان ماتم کر رہے تھے۔ خیر ماتم کرنے والے کرتے ہیں لیکن ناکام امطحانات کے کامیاب لوگ آج شان سے سرکاری ملازم کے خطاب کے ساتھ جی رہے ہیں۔ سال ۲۰۱۷ اپنے آخر میں ہے لیکن یہ سال کرگل کی غریب عوام کو کچھ خاص یادیں دے کر نہیں جا رہا ہے۔ اس سال کی زلزلہ آمیز خبروں میں سب سے پہلے کرگل میں وائرل ہونے والا فحش ویڑیو تھا جس نے سب کے رونگٹے کھڑے کر دئے۔ پھر ویجیلنس کے یم راج کا ۷۰ لوگوں کی فحرست لیکر کرگل پہنچنے کی خبر ملی۔ ان لوگوں پر الزام تھا کہ یہ لوگ ۱۰۰ روپیہ کھاتے میں لیکر ناشتہ ہزار روپئے  کا کھاتے ہیں جسکا اندازہ عوام کو بھی اُن کے عالیشان مکان گاڑیوں اور جموں و کشمیر میں موجود انکی زمینوں اور مکانوں سے ہو جاتا ہے۔ کرگل میں یہ نئی بات تو نہیں ہے لیکن پھر بھی اس خبر سے ہنگامہ بہت ہوا کہ حال میں ہوئے وی ایل ڑبلیو کے امتحان میں اسامیوں کو کرگل کے چند صاحب مقام لوگوں کے عزیز اور اقربائ کے درمیان بطور تبرک تقسیم کر دیا گیا ہے۔

اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان سب کا زمہ دار کون ہے؟

جہان زمہ داری کی بات آتی ہے ٹھیک ساس بہو کے جھگڑے کی طرح ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام دھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کسی کی نظر میں ساکاری ملازم چور میں تو کسی کی نگاہ میں سیاسی لیڑر اور کسی کی نظر میں کرگل کے دونوں مزہبی ادارے زمہ دار ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں جو ایک دوسرے کو ننگا کہہ رہے ہیں۔ ہم سماج کے رشوت خوروں کو تو کوستے ہیں مگر رشوت دینے والوں کو کچھ نہیں کہتے۔ فحش ویڑیو بنانے والوں پر لعنت کرتے ہیں مگر اس ویڑیو کو چرا کر جا بہ جا نشر کرنے والوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم لوگوں کو لوٹ کر مال جمع کرنے والوں کو تو گالیاں دے کر نکل جاتے ہیں مگر سماج میں ان لٹیروں کا احترام کرنے والے اور عزت دینے والوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اور پھر آخر میں ہمارے جوان ان سب کا ٹھیکرا آئے کے ایم ٹی اور آئی ایس کے سر پھوڑتے ہیں۔ شاید کچھ لوگوں کو گمان ہے کہ یہ دونوں ادارے آسمان سے نازل ہوئے ہیں یا پھر اقوام متحدہ کی جانب سے مامور کئے گئے ہیں۔ ان سب کے درمیان ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان اداروں کے کام کرنے والے، ان اداروں کو چلانے والے، اور حمایت کرنے والے سب کے سب ہم اور آپ میں سے کسی نہ کسی کے والد، چاچا، تایا، بھائی یا پھر دوست ضرور ہیں۔ اب اگر اسی طرح ایک دوسرے کو ننگا کہنے اور کوسنے کا سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد اس حمام کی دیواریں گر جائیں گی اور اس قوم کے ننگ پنے کو دیکھ کر ساری دنیا منہ پھیر لیگی۔

ان تمام مسائل پر بولنے والے بول رہے ہیں اور لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔ مگر اسی درمیاں سننے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ روزگار کا ایک نیا اور انوکھا تجربہ کر رہے ہیں کہ آر ٹی آئی لگاو، لوگوں کو ڑرائو، دباو بنائو اور مال کمائو۔ اب میں یہ لوگوں پر چھوڑتا ہوں کہ اس طرح مجبوری کا فائدہ اٹھانے کو رشوت خوری کہیں گے یا کچھ اور۔

صرف قوم کا مرثیہ پڑھنے سے تو کسی مسئلہ کا حل ہونے والا نہیں ہے۔ ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ آخر زیرو (۰) ایف آئے آر والے معاشرے میں آج رشوت، قتل، عصمت ریزی، فحاشی جیسی بیماریاں جڑ کیون پھیلا رہی ہیں۔ مجھے مولا علی کا ایک قول یاد آتا ہے کہ ـ جس کی آرزو لمبی ہوگی اسکا کام بھی خراب ہوگا۔ ہماری بدحالی کی کئی وجوہات ہو سکتے ہیں لیکن میری نظر میں یہ ایک بنیادی وجہ ضرور ہے۔ وہ قنائد پسند، وہ صابر قوم جو اتنی سختیوں کے باوجود نہایت ہی محبت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارتی تھی آج اس قوم کی خواہشات کی فہرست بہت طویل ہو گئی ہے۔ ہم سب کو سرکاری نوکری چاہئے، ایک عالیشان مکان چاہئے، چلنے پھرنے کیلئے ایک خوبصورت گاڑی، موسم سرما میں جموں کا سفر، بچوں کو جموں، دہلی، چنڑی گڑھ میں پڑھانا، مہنگے کپڑے اور منفرد موبائل وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ تمام چیزیں سیدھے راستے حاصل ہو تو ٹھیک ورنہ دوسری راہیں تلاش کرتے ہیں۔

آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ حکومت امام معصوم کی ہی کیوں نہ ہو اگر انسان ایماندار نہ ہو اور اسکی خواہشات کی فہرست طویل ہو تو دینار اور درہم کی جھنکار سُن کر امام معصوم کو چھوڑ دیتا ہے اور امیر شام کے دربار میں جا پہنچتا ہے۔

تحریر  ۔۔۔ انور علی انور ۔۔۔ ژھرپا