کشمیر: ایک نئی صبح کی تلاش

مقالہ افسانہ مضمون، پتا نہیں اردو کی لغت میں، میں جو لکھ رہا ہوں اسے کیا کہیں گے۔ کیونکہ اردو سے اتنا آشنا نہیں ہوں۔ اردو سے بس آتے جاتے راستے میں ہائے ہلو ہو جاتا ہے اس کے علاوہ کبھی ہماری بات نہیں بنی۔ اس لئے کا کی اور تھا تھی میں فرق نہیں کر پاتا ہوں۔ رہنے دیجئے پتا نہیں کس بحث میں پڑ گئے۔ یہ تو ایسی بات ہوئی کی لینے چلا تھا کتاب اور لے آئے جُراب۔ اصل میں بات کرنی تھی ملک میں بدلتے ہوئے ہوائوں کی۔

247EA62B00000578-2901459-image-a-71_1420696954777

سنا ہے آج کل ہوا بہت گرم ہے، لازم ہے کیونکہ گرمی کا موسم ہے۔ حیرانی اس بات پے ہے کی کشمیر جیسے ٹھنڑے علاقے میں بھی ہوا بہت گرم ہے چلو اس کو مزاج کی گرمی سمجھ لیتے ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کے کسی نے کہا ہے کی کشمیر میں بھی سہر ہونے والی ہے میں نے کہا ابھی تو شام نہیں ہوا کی تم صبح کی بات کر رہے ہو۔ کہنے لگا شام کے بعد تو صبح ہونا طے ہے میں نے کہا سہر ہونے کے لئے بھی ازان بلالی شرط ہے۔

ایک بات بتایئے جنت میں تو ازان بلالی ہوتی ہوگی کیونکہ وہاں تو حضرت بلال خود ہیں۔ کشمیر بھی تو جنت کا نمونہ ہے اور زمین بھی بڑی زرخیز ہے۔ اور اگر صبح ہونے کے لئے حضرت بلال ہی چاہئے تو کیوں نہ کھیتوں میں بلال اُگا کے دیکھیں۔ آج ضرورت بلال و عمار و مقداد و سلمان کی ہے اور ہم دیسی مُلائوں اور ہندی یوگیوں کے پاس دردکی دوا ڑھونڑ رہے ہیں۔ قران نے بھی تو کہا ہے انی جائلو کا لنناس اماما۔ اور علامہ اقبال نے بھی تو کہا ہے۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدلت کا شجائت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ایک اور بات بتائوں کشمیر تو ہے ہی اماموں کی زمین۔ اس نے ہندوستان کو نہرو اور ایران کو خمینی جیسی حستی دی ہے۔ آپ جو کشمیر سے باہر راجدہانی میں امامت پڑنے جاتے ہو یہ بات تو مجھے ایسا لگا جیسے پہاڑوں میں مچھلی ڑھونڈ رہے ہو۔ امامت تو وہاں پڑی جائے گی جہاں امامت پڑائی جاتی ہو۔ یہ تو غلاموں کا شہر ہے یہاں تو لوگ امامت کی الف کو بھی نہیں پہچانتےاور نہ یہاں اُس کیلئے ماحول ہے۔ میں اپنا آنکھوں دیکھا بھی بتائوں تو ایسا ہے کی لوگ یہاں پہلے بریانی کھاتے ہیں اور گرمی اتنی ہوتی ہے کی کھاتے ہی نیند چھڑ جاتی ہے پھر پسینے صاف کرتے رہ جاتے ہیں اور اس کے بعد تھوڑا وقت بچھتا ہے تو مچھر مارنے میں گزر جاتا ہے۔ بھلا یہاں کیا پڑائی ہوگی۔ کشمیر کی موسم سے تو آپ آشنا ہیں جس کی مثال شاعر کو دنیا میں نہیں ملتی اس لئے کہا تھا

اگر فردوس بروئے زمین است

ہمیں است ہمیں است ہمیں است

ان باتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی لڑائی چھوڑ دے۔ میں آپ کو لڑائی ترک کرنے کو بھی نہیں کہوں گا۔ لڑو اگر لڑ سکتے ہو تو، نہیں تو اپنی مائوں کو اپنے غم میں مت رلائو۔ آپ نے گرامچی کی ہیجیمنی تھیوری تو پڑی ہوگی۔ ٹھیک اُسی طرح ابھی جو آپ کی لڑائی ہے وہ زیادہ تر آپ کر نہیں رہے ہیں بلکہ کروایا جا رہا ہے۔ میدان میں آپ کی جیت تب ہوگی جب میدان آپ نے تیار کی ہو اگر دوسروں کی میدان میں جا کے لڑو گے تو شکست آپ کی تقریر ہے۔

تقریر سے یاد آیا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آجکل جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ اُنکی تقدیر میں لکھی ہوئی تھی۔ لیکن میں تو مانتا ہوں کی کشمیر توتقدیرکے ساتھ چلنے والے نہیں بلکہ اپنی تقدیر آپ لکھنے والوں میں سے ہے لیکن بس تھوڑی سی راستہ بٹک گئی ہے۔ جیسے کی علامہ اقبال پھر سے کہتے ہیں:

تیری دریا میں طوفان کیوں نہیں ہے؟

خودی اے مسلمان تیری کیوں نہیں ہے؟

عبس ہے شکوہ تقدیر یزدان

تو خود تقدیر یزدان کیوں نہیں ہے؟

تو نتیجہ یہ نکلا کی کشمیر کو عمار و سلمان و بلال چاہئے جو اپنی تقدیر آپ لکھے تاکہ امامت کے فرائض انجام دے سکے!

تحریر انور علی ژھرپا